حضرت یعقوب
تمام آسمانی مذاہب کے ماننے والوں کے نزدیک نبیِ برحق ہیں۔ تورات میں متعدد مقامات پر آپ
کا اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ذکر ملتا ہے، جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ
اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور منتخب رسول تھے۔ سفر پیدائش میں ہے کہ حضرت یعقوب
کے فدّان ارام سے لوٹنے کے بعد خدانے ان سے کہا :
میں خدائے قادر مطلق ہوں۔ تو برومند ہو اور بڑھتا چلا جا، تجھ سے ایک قوم بلکہ قوموں کا ایک گروہ ہوگا اور تیری نسل سے بادشاہ پیدا ہوں گے، جو ملک میں نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کو دیا وہ تجھے بھی دے رہا ہوں اور میں یہ ملک تیرے بعد تیری نسل کو بھی دوں گا۔ تب خدا جس جگہ اس سے ہمکلام ہوا وہیں سے اس کے پاس سے اوپر چلا گیا۔1
انجیل میں اگرچہ یعقوب
کی نبوت کا ذکر صراحتاً نہیں ملتا ہے لیکن عیسائیوں کے نزدیک بھی آپ
مقدس، محترم اور بزرگ شخصیات میں سے تھے۔ اعمال رسل میں ہے:
خدا نے ابراہیم (علیہ السلام) سے ایک عہد باندھا جس کا نشان ختنہ تھا۔ چنانچہ جب اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوا اور 8 دن کا ہوگیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا ختنہ کیا۔ پھر اسحاق (علیہ السلام) سے یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوا اور یعقوب (علیہ السلام) سے ہماری قوم کے 12 قبیلوں کے بزرگ پیدا ہوئے۔2
جبکہ قرآن کریم کی رو سے نہ صرف آپ
حضرت ابراہیم
کی اولاد میں سے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ
کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔3 لہٰذا آپ
کی پیش کردہ بشارتیں نہ صرف اہلِ اسلام کے لیے رہنمائی اور دلیل ہیں بلکہ اہلِ کتاب کے لیے بھی روشن و براہین کا درجہ رکھتی ہیں۔
تورات کے بیان کے مطابق حضرت اسحاق
نے اپنے فرزند حضرت یعقوب
کو تاکید فرمائی کہ وہ کسی کنعانی لڑکی سے بیاہ نہ کریں۔4چنانچہ حضرت یعقوب
نے اپنے والد کے حکم کی تعمیل میں اپنے ماموں لابان کے قبیلے کی طرف، جو فدانِ ارام میں آباد تھے، سفر کا ارادہ کیا۔ وہ بئر سبع سے حاران کی جانب روانہ ہوئے۔ سفر کے دوران جب ایک مقام پر سورج غروب ہوا اور رات کی تاریکی چھا گئی تو آپ
نے وہیں قیام کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ رات وہیں گزار سکیں۔ اسی مقام پر حضرت یعقوب
نیند کی آغوش میں چلے گئے اور ایک عجیب و معنی خیز خواب دیکھا، جس کا ذکر سفرِ پیدائش میں یوں ہے:
رأى حلما، وإذا سلم منصوبة على الأرض ورأسها يمس السماء، وهوذا ملائكة اللّٰه صاعدة ونازلة عليها. وهوذا الرب واقف عليها...5
انہوں (یعقوب) نے ایک خواب دیکھا کہ ایک سیڑھی زمین پر نصب تھی، جس کا سرا آسمان کو چھو رہا تھا، اور اس پر اللہ کے فرشتے اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے دکھائی دے رہے تھے۔ اور یہ بھی دیکھا کہ ربِّ کائنات اس سیڑھی کے اوپر جلوہ فرما ہے۔۔۔
حضرت یعقوب
کے خواب کا اگلا منظر تورات میں یوں وارد ہے:
اور خداوند اس کے پہلو میں کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں خداوند، تیرے باپ ابرہام (علیہ السلام) کا خدا اور اضحاق (علیہ السلام) کا خدا ہوں۔ میں یہ زمین جس پر تُو لیٹا ہے تجھے اور تیری نسل کو دوں گا۔ تیری نسل خاک کے ذروں کے مانند ہوگی اور تُو مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں پھیل جائے گا۔ زمین کے سب قبیلے تیرے اور تیری نسل کے وسیلہ سے برکت پائیں گے۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تُو جہاں کہیں جائے گا وہاں تیری حفاظت کروں گا اور میں تجھے اس ملک میں واپس لاؤں گا اور جو وعدہ میں نے تجھ سے کیا ہے اسے پورا کرنے تک میں تجھے اکیلا نہ چھوڑوں گا۔ جب یعقوب (علیہ السلام) نیند سے جاگے تو اس نے سوچا کہ ہو نہ ہو خداوند اس جگہ موجود ہے اور مجھے اس کا علم نہ تھا۔6
علمائے یہود و نصاریٰ نے حضرت یعقوب
کے خواب میں تحریف کرتے ہوئے اس کے اصل مفہوم کو بالکلیہ حذف کردیا، اور اس کی جگہ وہ عہدِ الہٰی پیش کیا جو ان کی خواہشات، آرزوؤں، کینہ اور حسد کے زیادہ موافق اور ہم آہنگ تھا۔ حالانکہ یعقوب
کو خواب میں جو منظر دکھایا گیا تھا اورخدا تعالیٰ نے ان سے جو گفتگو فرمائی تھی، اسے علمائے اہلِ کتاب نے یکسر نظر انداز کردیا۔ لیکن سابقہ یہودی عالم سعیدبن حسن اسکندرانی (متوفیٰ 698ہجری بمطابق 1298 عیسوی) فرماتے ہیں کہ جب حضرت یعقوب
اپنے بھائی عیصو سے بھاگ کر حاران کی طرف روانہ ہوئے تو انہوں نے ایک خواب دیکھا۔ وہ لکھتے ہیں:
رأى في منامه سلماً قد نصب من الأرض إلى السماء وله خمس درجات، ورأى في منامه أمة عظيمة صاعدة في ذلك الدرج، والملائكة يعضدونهم وأبواب السماء مفتوحة، فتجلى له ربه قائلا: يا يعقوب، لا تخف، أنا معك أسمع وأرى، تمنّ يا يعقوب. فقال: يا رب، من أولئك الصاعدون في ذلك الدرج؟ فقال اللّٰه له: هم ذرية إسماعيل. فقال: يارب، بماذا وصلوا إليك؟ فقال اللّٰه له: بخمس صلوات فرضتهن عليهم في اليوم والليلة، فقبلوهن وعملوا بهن. 7
اُس (حضرت یعقوب) نے خواب میں دیکھا کہ ایک سیڑھی زمین سے آسمان تک نصب ہے جس کے پانچ درجے ہیں، اور اس نے دیکھا کہ ایک عظیم امت اس سیڑھی کے درجوں پر چڑھ رہی ہے، فرشتے ان کی مدد کر رہے ہیں اور آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ پھر اس پر رب تعالیٰ کی تجلی ہوئی اور فرمایا: اے یعقوب
! ڈرو نہیں، میں تمہارے ساتھ ہوں، میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔ اے یعقوب
! مانگو جو تم چاہتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کون لوگ ہیں جو اس سیڑھی پر چڑھ رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ اسماعیل (
)کی اولاد ہے۔ اس نے پھر عرض کیا: اے میرے رب! یہ تیرے قریب کیسے پہنچے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس لیے کہ میں نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کیں، انہوں نے انہیں قبول کیا اور ان پر عمل کیا۔
جب حضرت یعقوب
نیند سے بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنی اولاد کو پانچ نمازوں کی تلقین کی۔ اگرچہ تورات میں بنی اسرائیل پر اس صورت میں پانچ نمازوں کی صراحتاً فرضیت مذکور نہیں ملتی، تاہم بنی اسرائیل کے انبیاء
وعلماء اپنے جدِ امجد حضرت یعقوب
کی اتباع میں پانچ نمازیں پڑھتے رہے، نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ
کی آمد کی بشارات دیتے رہے اور اس کے منتظر رہے۔ اسی تسلسل میں انبیائے بنی اسرائیل
نے یہود کو خبردار کرتے ہوئے امتِ محمدیہ
کی نماز کی صفت بھی بتائی۔8سفر یسعیاہ میں ہے:
فيسكن الذئب مع الخروف، ويربض النمر مع الجدي، والعجل والشبل والمسمن معا...9
بھیڑیا برّے کے ساتھ سکونت اختیار کرے گا، اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ رہے گا، اور بچھڑا، شیر کا بچہ اور خوب پلا ہوا جانور سب اکٹھے رہیں گے۔۔۔
اگرچہ سموأل بن یحییٰ اندلسی (سابق یہودی عالم،شموئیل بن یہوداہ، متوفیٰ 570 ہجری) اس کا معنی کرتے ہیں کہ انبیائے کرام
نے ان مثالوں کے ذریعے دینِ مسیح کی عظمت، اس کے ماننے والوں کے سامنے جابروں اور سرکشوں کے سرتسلیم خم کرنے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ 10 تاہم، اس کا اصل معنی وہی ہے جو سعید بن حسن اسکندرانی نے بیان کیا ہے کہ بادشاہ اور فقیر نماز کی صفوں میں ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اسی بنا پر بنی اسرائیل اور ان کے علماء حضرت یعقوب
کی سنت کی پیروی میں پانچ نمازیں ادا کرتے رہے، جبکہ انبیائے بنی اسرائیل
اپنی امتوں کو حضرت محمد
کے ظہور کی بشارت دیتے، آپ
کی عظمت و حرمت کا ذکر کرتے، اور یہ تمنا کرتے کہ کاش وہ مبارک زمانہ ان کے اپنے دور میں آ جائے۔ 11
جہاں تک سموأل بن یحییٰ اندلسی کی تفسیر کا تعلق ہے، اگر عیسائیت کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حضرت مسیح
کی بعثت سے لے کر چوتھی صدی عیسوی تک، جب رومی سلطنت نے عیسائیت کو بطورِ سرکاری مذہب اختیار کیا، نصاریٰ مسلسل ضعف و مغلوبیت کی حالت میں رہے۔ نہ تو اقوامِ عالم ان کے زیرِ نگیں آئیں، اور نہ ہی جابر وسرکش لوگوں نے دینِ عیسائیت کو قبول کیا۔ یہ تاریخی پس منظر اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اسکندرانی کی پیش کردہ مثال کی تاویل اور یہ تفسیر کہ اس سے مراد امتِ محمدیہ
ہے، محض ایک فکری احتمال نہیں بلکہ ایک ایسا موقف ہے جس کی تائید خود تاریخ کے مسلمہ حقائق بھی کرتے ہیں۔12
یعقوب
زندگی کے آخری ایام میں جب بسترِ مرگ پر تھے، انہوں نے اپنے 12 بیٹوں اور ان کے خاندانوں کو اپنے پاس بلایا۔ پھر ہر بیٹے کو برکت کی دعا دی اور اس کی نسل کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی فرمائی۔ یہ بیان وصیتِ یعقوب
کے نام سے معروف ہے۔ 13اور اسی وصیت میں یعقوب
نے رسول اللہ
کے متعلق بھی بشارت عطا فرمائی۔ چنانچہ سفر تکوین میں ہے کہ یعقوب
نے اپنے بیٹے یہوداہ کے متعلق فرمایا:
لا يزول قضيب من يهوذا ومشترع من بين رجليه حتى يأتي شيلون وله يكون خضوع شعوب. 14
جب تک شیلوہ نہیں آجاتا، اور تمام قومیں اس کی مطیع نہیں ہو جاتی، تب تک یہوداہ کے ہاتھ سے نہ تو بادشاہی جائے گی، نہ اس کی نسل سے عصائے حکومت موقوف ہوگا۔15
قضیب سے مراد حکمرانوں کی لاٹھی ہے، جسے صولجان بھی کہا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے قاضی صولجان کو ریاستی منصب اور اختیار کی علامت کے طور پر استعمال کرتے تھے۔16 اور مشترع کا اطلاق راسم، مدبر اور صاحبِ شریعت پر ہوتا ہے۔17 شیلون لفظ عربی کے اس ترجمے میں مذکور ہے جبکہ دیگر تراجم میں شیلون کی جگہ شیلوہ لفظ ہے جیسا کہ اردو ترجمے میں بھی موجود ہے۔ اسی طرح عبرانی نسخوں میں بھی اسی لفظ شیلوہ کا ترجمہ پایا جاتا ہے۔ 18 کنگ جیمز ورژن (King James Version) میں بھی (Shiloh) شیلوہ لفظ مذکورہے۔19
لفظ "شیلوہ" کی تفسیر و معنی کے بارے میں اہلِ کتاب کے علماء آج تک حیران و پریشان ہیں، اور انہوں نے اس کے مختلف معانی و مفاہیم بیان کیے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی راجح تفسیر یہ ہے کہ "شیلوہ" تین الفاظ (شی، ل، وہ )سے مرکب ہے، اور اس کا معنی ہے الذی له یعنی وہ جس کا (حقِ حکومت) ہے۔ 20 اس معنی کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ترجمہ سبعینیہ میں تقریبا ًیہی ترجمہ مذکور ہے۔چنانچہ راہب ابیفانوس مقاری سفر تکوین کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لا يزول رئيس من يهوذا، ولا مدبر من صلبه، حتى يأتي ما وضع له، وهو انتظار الأمم. 21
یہوداہ (کی نسل ) سے حاکم اور مدبر (صاحبِ شریعت) اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک وہ (ہستی ) نہ آئے جو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے ، اور تمام اقوام اس کی منتظر ہیں۔
اسی طرح سفرِ حزقیل(
)سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ کتاب مقدس میں مذکورہے:
خداوند فرماتا ہےمیں اسے (بادشاہت) کو ویران کردوں گا! وہ اس وقت تک بحال نہ کیا جائے گا جب تک کہ اس کا حقیقی مالک نہ آجائے۔ میں اسے اسی کو دوں گا۔22
عربی نسخوں میں یہاں وہی ترجمہ مذکور ہے جو مندرجہ بالا سطور میں ہے: ...حتى يأتي الذي له الحكم فأعطيه إياه .23 یعنی یہاں تک کہ وہ ہستی نہ آئے جس کا حقِ حکومت ہے، میں یہ حکومت اسی کو دوں گا۔
اہلِ کتاب اس عبارت کے الفاظ، بالخصوص لفظ شیلوہ کی تعیین اور اس کے معانی و مفاہیم میں جس طرح اختلاف کا شکار ہیں، اسی طرح اس کے حقیقی مصداق کے تعین میں بھی وہ شدید حیرت اور اضطراب میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ البتہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ یہ آیت یعقوب
کے بعد آنے والے زمانے میں ایک نبی کی آمد کی بشارت دیتی ہے۔ مگر جس نبی کے متعلق یہ پیشین گوئی ہے، اس میں پھر اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہودیت کے نزدیک اس آیت کا مصداق حضرت داؤد
ہیں۔24جبکہ عیسائیت حضرت عیسیٰ
کو یہوداہ کی نسل سے قرار دیتے ہوئے اس بشارت کا مصداق انہی کو ٹھہراتے ہیں۔ 25 اہلِ اسلام کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا صحیح اور حقیقی مصداق اللہ کے آخری نبی، رسولِ اکرم
ہیں۔ اور اسی مؤقف کو یہاں مختلف تفاسیر کی روشنی میں واضح اور ثابت کیا جائے گا۔
مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہوئی کہ قضیب سے مراد حکومت اور عصائےحکومت (صولجان) ہے، اور مشترع سے مراد بنی اسرائیل کے انبیاء
اور علماء ہیں، جو لوگوں کو شریعت موسوی کی تعلیم دیتے اور تورات سے احکام استنباط کرتے تھے۔ جبکہ شیلوہ سے مراد وہ منتظر نبی موعود ہے جسے وہ مسیح یامسیا کے لقب سے پکارتے ہیں، اور اس سے مراد نبی اسلام، نبی عربی محمد
ہیں۔ وہ جب تشریف لائیں گے تو تمام اقوام عالم اس کے سامنے سر تسلیم خم کریں گی اور اس کی اطاعت کریں گی۔ اس اعتبار سے بشارت کا مفہوم یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی حکومت زمین پر غالب رہے گی، اور اس حکومت کے سربراہان اور حکمران انہی میں سے ہوں گے۔ اس دوران بنی اسرائیل کے انبیاء
اور علماء انہی حکمرانوں کے زیر سایہ لوگوں کو تورات کی تعلیم دیتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ اسی وقت تک قائم رہے گا جب تک بنی اسرائیل کے علاوہ کسی اور نسل میں ایک نبی مبعوث نہ ہو، جسے حکومت بھی حاصل ہو اور شریعت بھی۔ اسی نبی کو مذکورہ بشارت میں "شیلوہ" کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس کا حقیقی مصداق رسول اللہ
ہیں۔26
اس کی دلیل یہ ہے کہ یعقوب
نے اپنی اولاد سے یہ فرمایا تھاکہ میں تمہیں وہ حقائق بتاتا ہوں جو تمہیں آخری زمانے میں در پیش ہوں گے۔ 27اور بنی اسرائیل حضرت داؤد
کے زمانے تک ہی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ
کے بعد تک بحیثیت ایک امت کے رہے۔کیونکہ وہ خود یہ دعویٰ کرتےہیں کہ بنی اسرائیل یروشلم کی تباہی تک (سن 70 عیسوی) بحیثیت امت کے متحد رہے، اس کے بعد وہ منتشر ہوگئے۔28 اگر یہودیوں کا یہ قومی وملی امتیاز حضرت عیسیٰ
کے بعد بھی قائم تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شیلوہ کا مصداق نہ حضرت داؤد
ہیں اور نہ حضرت عیسیٰ
،بلکہ شیلوہ کی آمد اس وقت تک نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس کے بعد ہوگی۔ اور عیسیٰ
کے بعد ایک ہی ہستی اس دنیا میں آئی ہے جو شیلوہ کا مصداق بن سکے اور وہ نبی عربی حضرت محمد
ہیں۔ مزید یہ کہ آیت کا جزءِ اخیر ( تمام اقوام ا س کے سامنے سر تسلیم خم کریں گی) بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا مصداق رسول اللہ
ہیں ۔ کیونکہ داؤد
کی حکومت بنی اسرائیل کے علاوہ دیگر اقوام پر قائم نہیں تھی۔ جبکہ عیسیٰ
نے خود ہی فرمایا تھا:
میں صرف اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا گیا ہوں۔29
لہٰذا اس صورت میں ایک ہی نبی ایسا ہے جو یہوداہ کی اولاد کی حکومت کے بعد آئے، جس کی بشارت حضرت ابراہیم
اور ہاجرہ
نے دی ہے، 30 اور تمام اقوام نے جس کی تابعداری اور فرمانبرادی کو سعادت سمجھا، جس کا نور سرزمین عرب میں چمکا اوراس نے مشرق ومغرب کو روشن کیا وہ آپﷺ کی ذاتِ گرامی ہی ہے ۔
مذکورہ بالا بشارت میں حاکم (جس پر ترجمہ سبعینیہ کا لفظ رئیس بھی دال ہے) 31سے مراد موسی
ہیں ا س لیے کہ آپ
کی شریعت بعض اعتبارات سے سخت اور اجباری تھی اور مشترع ومدبر سے مراد عیسیٰ
ہے اس لیے کہ آپ
کی شریعت نہ سخت تھی اور نا اجباری تھی ۔ اور شیلوہ سے مراد رسول اکرم
ہیں۔ اور اگر قضیب سے مراد دنیوی سلطنت ہو، اور مدبر ومشترع سے مراد دنیوی حاکم ہو، جیسا کہ فرقہ پروٹسنٹ کے پادریوں کے رسائل اور ان کے بعض تراجم میں ہے تو اس صورت میں بھی نہ ہی شیلوہ سے مسیحِ یہود مراد لینا درست ہے جو یہودیوں کا دعویٰ ہے اور نہ ہی اس کا مصداق حضرت عیسیٰ
ہیں جو عیسائیوں کا دعویٰ ہے۔ یہود کا دعویٰ اس لیے باطل ہے کہ آلِ یہوداہ سے دنیوی سلطنت اور سیاسی اقتدار بخت نصر کے عہد ہی سے ختم ہو چکا ہے، جسے دو ہزار سال سے زائد عرصہ گزر گیا، مگر اس طویل مدت کے باوجود یہودی جس مسیحِ موعود کے منتظر ہیں، اس کے ظہور کا کوئی نشان تک ظاہر نہیں ہوا۔ عیسائیوں کا دعویٰ ا س لیے باطل ہے کہ یہ دونوں چیزیں خاندانِ یہوداہ سے عیسیٰ
کی بعثت سے تقریبا 6 سو سال قبل مٹ چکی تھیں، جبکہ بخت نصر نے یہوداہ کی اولاد کو بابل کی طرف جلاوطن کیا اور تقریبا 63 سال تک وہ جلا وطنی میں رہے۔ لہٰذا شیلوہ کا مصداق عیسیٰ
اس لیے نہیں ہوسکتے کیونکہ آپ
کے ظہور تک یہوداہ کے خاندان میں بادشاہت ہی نہیں رہی۔اور اگر کوئی یہ کہے کہ سلطنت اور حکومت کے باقی رہنے کا مطلب بشارت میں امتیاز ِقومی ہے تو یہود کی یہ صورتِ حال رسول اللہ
کے ظہور تک باقی چلی آرہی تھی۔ چنانچہ ملکِ عرب کے مختلف علاقوں میں ان لوگوں کے بکثرت مضبوط قلعے اور املاک موجود تھیں، اسی طرح یہ کسی کے ماتحت اور مطیع نہیں تھے۔ جیسا کہ خیبر اور دیگر علاقوں کے یہود پر تاریخ شاہد ہے۔ البتہ حضور اکرم
کی بعثت کے بعد ان یہودیوں پر ذلت ومسکنت مسلط کر دی گئی اور ہر ملک میں دوسروں کی ذلیل رعایا بن گئے ۔ اس لیے شیلوہ کا صحیح اور حقیقی مصداق صرف رسول اللہ
ہی ہو سکتے ہیں۔32
بائبل کے بعض علماء اور شارحین نے شیلوہ کا ایک معنی " امان" بھی کیا ہے۔33 اور اگر اس معنی کی گہرائی پر غور کیا جائے تو یہ بشارت رسول اللہ
کے حق میں مزید واضح ہوجاتی ہے۔ چنانچہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر لفظ "امان" کے حروف کو ابجد کے قاعدے کے مطابق عددی اقدار دی جائیں تو مجموعی قدر وہی بنتی ہے جو نامِ محمد
کے حروف کی عددی مقدار ہے۔ اس طرح دونوں الفاظ کا حسابِ جمّل یا ابجدی حساب ایک ہی نتیجے پرپہنچتاہےجس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
| نام | ابجدی حساب | مجموعی تعداد |
|---|---|---|
| امان | ا = 1، م = 40، ا = 1، ن = 50 | 92 |
| محمد | م = 40، ح = 8 ، م = 40 ، د = 4 | 92 |
اس اعتبار سے یہ بشارت نہ صرف اشارۃً بلکہ اعداد و حروف کے لحاظ سے بھی پوری طرح حضرت محمد ﷺ پر صادق آتی ہے، اور اس میں کسی دوسرے شخص کی مطابقت نہیں پائی جاتی۔34
عبد السلام مہتدی ایک یہودی عالم تھے جو سلطان بایزید ثانی کے دور میں اندلس سے ہجرت کر کے دولتِ عثمانیہ کی سرزمین پر آئے تھے۔اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ" خوجہ ایلیا یہودی"کے نام سے مشہور تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام عبدالسلام مہتدی محمدی رکھا۔آپ کی زندگی کا زمانہ سلطان بایزید ثانی سے لے کر سلطان سلیم اوّل کے دور تک پھیلا ہوا ہے۔آپ کا انتقال سن 918 ہجری بمطابق 1512 یا 1513 عیسوی میں ہوا۔ 35بعض حضرات کہتے ہیں کہ آپ سلطان بایزید کے دور حکومت میں دفتردار کی حیثیت سے سرکاری عہدے پر بھی فائز رہے۔ 36 عبدالسلام مہتدی نے رسالہ ہادیہ کے نام سے ایک چھوٹا سے رسالہ لکھا ہے جس میں انہوں نے دیگر بشارات سمیت مذکور بالا بشارت کی اصل عبرانی عبارت، عربی ترجمہ اور لفظ شیلوہ کی تفسیر بیان کی ہے۔ چنانچہ انہوں نے عبرانی عبارت یوں ذکر کی ہے:
ويقْراء يعقوب البانود يومر اليهم هاصفوآء واجيذ لكم اشر يقراء اثكم باحريث هيا ميم لويا سور شبط من يهوده ووحمقق مبين رجلو عذكى يابوشيلو ولو يقهث عميم.
וַיִּקְרָ֥א יַעֲקֹ֖ב אֶל־בָּנָ֑יו וַיֹּ֗אמֶר הֵאָֽסְפוּ֙ וְאַגִּ֣ידָה לָכֶ֔ם אֵ֛ת אֲשֶׁר־יִקְרָ֥א אֶתְכֶ֖ם בְּאַחֲרִ֥ית הַיָּמִֽים. 37 לֹֽא־יָס֥וּר שֵׁ֙בֶט֙ מִֽיהוּדָ֔ה וּמְחֹקֵ֖ק מִבֵּ֣ין רַגְלָ֑יו עַ֚ד כִּֽי־יָבֹ֣א שִׁילֹ֔ה וְל֖וֹ יִקְּהַ֥ת עַמִּֽים. 38
عربی میں اس کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
أخبَر يَعقوب لأولاده وقال لهم: اجتمعوا لأخبركمْ الّذي يعرض لكمْ في آخر الزّمان؛ لا يزول الحاكم من بين يهوديّ ولا راسم من بين رجليه حتى يجيء الّذي له وإليه يجتمع الشعوب.
یعقوب () نے اپنے بیٹوں کو خبر دی اور ان سے فرمایا: تم سب جمع ہو جاؤ، تاکہ میں تمہیں وہ باتیں بتاؤں جو آخری زمانے میں تم پر پیش آئیں گی۔ یہوداہ سے حاکم (بادشاہ) زائل نہ ہوگا، اور نہ اس کی نسل سے راسم (قانون دینے والا)ختم ہوگا، یہاں تک کہ وہ آ جائے جس کا حق (حکومت) ہے، اور قومیں اسی کے گرد جمع ہوں گی۔
یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ موسیٰ اور عیسیٰ
کے بعد محمد
تشریف لائیں گے،کیونکہ حاکم سے مراد موسی
ہیں، اس لیے کہ یعقوب
کے بعد موسی
تک کوئی شخص صاحبِ شریعت نہیں آیا۔ اسی طرح راسم (قانون دینے والا) سے مراد عیسیٰ
ہیں،کیونکہ موسی
کے بعد عیسیٰ
تک ان کے سوا کوئی صاحبِ شریعت نہیں آیا۔ اور ان دونوں کے بعد سوائے محمد
کے کوئی بھی صاحبِ شریعت نہیں بنا۔سو یعقوب
کے قول فی آخر الایام سے معلوم ہوتا ہے کہ ا س کا مصداق پیغمبر اسلام حضرت محمد
ہیں۔ اس لیے کہ حاکم اور راسم کے حکم ختم ہوجانے کے بعد آخری دور میں سوائے آپ
کے اور کوئی نہیں آیا۔ نیز اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ لفظ "وہ آجائے جس کے لیے وہ ہے"سے مراد حکم ہے کیونکہ آیت کا سیاق وسباق یہی بتا تا ہے ۔اور لفظ " تمام قومیں اس کی مطیع ہوں گی" اس بات کی صریح اور واضح دلیل ہے کہ ا س کا مصداق یقینا ً حضور اکرم
ہی ہیں، کیونکہ تمام اقوام آپ
کے سوا کسی کے جھنڈے کے نیچے جمع نہیں ہوئیں۔39
عبد الاحد داؤد (1867ء تا 1940ء) کا خاندانی نام ڈیوڈ بنجمن (David Benjamin) تھا۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسی نام کو عربی کے ساتھ بدل کر داؤد بنیامین کر دیا۔ قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے اپنے نام کے ساتھ علاقائی نسبت سے کُلدانی بھی جوڑ لیا۔ البتہ مسلمان ہو جانے پر جو اسلامی نام ان کو دیا گیا وہ عبد الاحد ہے، جس کا مقصد ان کے سابقہ عقیدہ تثلیث کی نفی پر زور دینا تھا۔ انہوں نے (Muhammad in the Bible) نامی کتاب لکھی۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بائبل کی بہت سی پیشین گوئیاں، جن کو مسیحیوں نے یسوع کے لیے حوالہ کے طور پر سمجھا ہے، حقیقت میں وہ محمد
کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ عبد الاحد داؤد اپنی کتاب میں لفظ شیلوہ کی تشریح کرنے سے پہلے اصل عبرانی زبان سے اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
The Sceptre shall not depart from Judah, And the Lawgiver from between his feet, Until the coming of Shiloh, And to him belongeth the obedience of peoples. 40
یہودا سے صولجان (عصائے حکومت) نہ زائل ہوگی اور نہ اس کی نسل سے شارع منقطع ہوگایہاں تک کہ شیلوہ آ جائے، اور قوموں کی فرمانبرداری اسی کے لیے ہوگی۔
پروفیسر عبد الاحد داؤد اس آیت میں لفظ شیلوہ (Shiloh) -جیسا کہ کنگ جیمز ورژن (KJV) میں آیا ہے- کی لغوی تحقیق اور تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لفظ شیلوہ بائبل میں صرف ایک ہی جگہ آیا ہے، اور یہ ش، ل، و، ہ سے مرکب ہے۔ لفظ شیلوہ کے اصل معنی میں تین احتمالات پائے جاتے ہیں:
احتمالِ اول:عہدِ قدیم کے نسخوں میں اگرچہ لفظ شیلوہ کو ویسا ہی رکھا گیا ہے، تاہم سریانی ترجمہ بشیطا (Pshitta) میں اس کا ترجمہ He to whom it belongs یعنی ”وہ جس کا ہے“ کیا گیا ہے اور دراصل مترجم نے یہاں اس لفظ کو دواجزاء میں تقسیم کر کے اس کا ترجمہ کیا ہے۔پہلا جزء "شِ" جوعبرانی لفظ "اشیر" کا مخفف ہے، جس کے معنی " وہ" کے ہیں۔ دوسرا جزء "لوہ" کا مطلب "اس کا" ہے جس کا عربی مترادف لہ ہے۔41 اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یوں ہوگا :
The royal and prophetic character shall not pass away from Judah until he to whom it belongs come, for his is the homage of people. 42
یہوداہ (کی نسل) سے بادشاہت اور نبوت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک وہ(ہستی) نہ آجائے جس کا اس پر حق ہے، اور قومیں اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گی۔
احتمال ثانی: لفظ شیلوہ شلَہ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے پُرامن، پُر سکون، امانت دار اور قابل اعتماد۔
احتمال ثالث: شیلوہ اصل میں شیلوح تھا (چونکہ حاء اور ہاء میں زیادہ فرق نہیں، خصوصاً عبرانی زبان میں، اس لیے قصداً یا سہواً حاء کو ہاء میں تبدیل کر دیا گیا ہے)۔ اور شیلوح کااسم مفعول شلوح کا ہے جس کا مطلب ہے بھیجا ہوا، رسول، نمائندہ۔ اور اگر واقعی یہ تبدیلی اس لفظ میں کی گئی ہو تو اس صورت میں شیلوح کا اصل شیلواح ہے، جو عربی میں "رسول یاہ" کے مترادف ہے، یعنی اللہ کا رسول۔ اور اس لفظ کا اطلاق صرف حضرت محمد
پر ہی ہوتا ہے۔43
احتمالِ اول کی تطبیق: احتمالِ اول کے اعتبار سے شیلوہ (Shiloh) کا سریانی ترجمہ یعنی وہ جس کا یہ حق ہے،اس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ وہ ہستی جو صولجان (اقتدار) اور شریعت دونوں کی مالک ہو، یا یہ کہ جس کے پاس حاکمیت اور قانون سازی کا اختیار ہو، اور جس کی اطاعت تمام اقوام پر لازم ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ عظیم الشان بادشاہ اور جلیل القدر قانون دینے والا کون ہو سکتا ہے؟
اس میں شک نہیں کہ اس کا مصداق حضرت موسی
نہیں ہو سکتے ؛ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہوں نے بنی اسرائیل کے 12 قبائل کو منظم کیا جبکہ اس سے قبل یہوداہ کی اولاد میں نہ ہی نبوت تھی اور نہ ہی بادشاہت۔ اور نہ ہی ا س کا مصداق حضرت داؤد
ہو سکتے ہیں ؛ کیونکہ یہوداہ کی اولاد میں حضرت داؤد
پہلے نبی ہیں جنہیں بادشاہت دی گئی۔ اور نہ ہی اس کا مصداق حضرت عیسی
ہیں؛ کیونکہ انہوں نے خود یہود کے اس عقیدے کی تردیدکی کہ مسیحِ منتظرحضرت داؤد
کی نسل سے ہوگا۔44 علاوہ ازیں عیسی
نے کوئی تحریری شریعت چھوڑی اور نہ ہی کبھی بادشاہت سنبھالنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ بلکہ انہوں نے یہودیوں کو نصیحت کی کہ قیصر کے مطیع رہو اور اسے ٹیکس ادا کرو۔45 ایک موقع پر جب لوگوں نے انہیں بادشاہ بنانے کی کوشش کی تو وہ وہاں سے نکل کرتنہا پہاڑ کی طرف چلے گئے۔46 انہوں نے اپنا پیغام تحریری طور پر نہیں بلکہ زبانی طور پر سنایا۔47 مزید یہ کہ عیسیٰ
نے موسیٰ
کی شریعت کو منسوخ نہیں کیا بلکہ صاف الفاظ میں کہا کہ وہ تو اس کی تکمیل کے لیے آئے ہیں۔ 48اور وہ آخری نبی بھی نہ تھے؛ کیونکہ ان کے بعد پولس خود اپنی کلیسیا میں کئی انبیاء
کا ذکر کرتا ہے۔49
اس کے برعکس، رسول عربی حضرت محمد
ایسی شان کے ساتھ تشریف لائے کہ آپ
کے پاس قوتِ اقتدار بھی تھی اور قرآن کی صورت میں کامل شریعت بھی۔ آپ
نے پرانے اور فرسودہ یہودی نظامِ اقتدار اور ناقابلِ عمل شریعت کی جگہ ایک جامع اور قابلِ عمل نظام انسانیت کو دیا۔ آپ
نے توحید کے عقیدے پر مبنی اعلی وبالا دین کی دعوت دی اور انسانیت کے اخلاقی رویوں اور عملی زندگی کے لیے بہترین اصول اور ضوابط بیان فرمائے۔ ان اصول وضوابط پر آپ
نے اسلام کی بنیاد رکھی جس نے مختلف قوموں اور نسلوں کو یکجا کر کے حقیقی اخوت میں بدل دیا۔ آپ
نے ایسی امت تیار فرمائی جو خدا وحدہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی۔ تمام مسلمان آپ
کی اطاعت کرتے ہیں، آپ
کو محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں،اور آپ
کو دین متین کا شارع اور بانی مانتے ہیں، مگر آپ
کو معبود یا خدائی اوصاف کا حامل نہیں مانتے۔ مزید برآں، آپ
نے یہودی اقتدار کی آخری نشانیوں قریظہ اور خیبر کی ریاستوں کا خاتمہ کر دیا اور ان کے تمام قلعوں اور مضبوط گڑھوں کو تباہ کر دیا۔
احتمالِ ثانی کی تطبیق: لفظ شیلوہ (Shiloh) جس کی آرامی شکل (Shilya) بنتی ہے، جو شلَہ (Shala) سے ماخوذ ہے،جس کے معنی پُر امن، پُر سکون، امانت دار اور قابل اعتماد کے ہیں،اگر اس احتمال کو لیا جائے تب بھی شیلوہ کا صحیح مصداق رسول اللہ
ہی ہیں۔ چنانچہ عرب کی تاریخ میں یہ ایک ناقابلِ فرموش حقیقت ہے کہ بعثت سے قبل آپ
انتہائی پُرسکون، پُرامن، قابلِ اعتماد، اور دلکش کردار کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ مکہ آپ
کو صادق وامین کے لقب سے پکارتے تھے، جبکہ اس وقت اہل مکہ کےخواب و خیال میں بھی شیلوہ کا تصور نہیں تھا، بلکہ وہ اس معنی سے بالکل ناواقف تھے، تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ناواقفیت کو اہلِ کتاب یہود کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال فرمایا، جو اپنی کتابوں سے واقف تھے۔
مزید یہ کہ امین (جو عربی فعل اَمَنَ سےمشتق ہے) اور عبرانی لفظ امن (Aman) دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے، یعنی امانت دار،قابل اعتماد، پرسکون اور وفادار۔ اس لحاظ سے بھی امین اور شیلوہ دونوں میں معنوی ہم آہنگی اور گہرا ربط پایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، رسول عربی حضرت محمد
بعثت سےقبل مکہ میں سب سے زیادہ خاموش مزاج، سچے اور امانت دار انسان تھے۔ اس وقت نہ تو آپ
جنگجو تھے اور نہ قانون ساز وشارع تھے۔ لیکن جب آپ
نے اعلانِ نبوت فرمایا تو آپ
افصح العرب اور اشجع الناس بن کر سامنے آئے۔ آپ
نے اللہ کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جنگ کی، لیکن یہ جنگ ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے تھی۔ آپ
نے دنیا سے بت پرستی کا خاتمہ کیا اور زمین کے بڑے حصے کو توحید کی روشنی سے منور کیا، اور انسانوں کو ایک کامل دین اور بہترین قانون عطا فرمایا۔ آپ
نے بنی اسرائیل سے حکومت اور شریعت کا منصب گویا بنی اسماعیل کی طرف منتقل کیا،حکومت کو مضبوط کیا اور شریعت کو کمال تک پہنچایا۔
احتمالِ ثالث کی تطبیق: جہاں تک لفظ شیلوہ (Shiloh) کی تیسری تفسیر کا تعلق ہے تو اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ لفظ شلوحا (Shaluah)کی تحریف شدہ شکل ہو۔ اگر حقیقتاً اس میں یہ تحریف کی گئی ہے تو بلا شبہ یہ لفظ عربی میں لفظ رسول کے لقب کے عین مترادف اور مطابق قرار پاتا ہے، جس کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے۔اور اس کا مطلب وہی ہے جو شلوحا کا ہے، یعنی رسول یا پیغمبر۔ چنانچہ عبرانی ترکیب "شَلوحا الوہیم" (Shaluah Elohim) کا مفہوم وہی ہے جو عربی میں "رسول اللہ "کا ہے، اور یہ اس عربی ترجمہ کو آج بھی دنیا بھر کی مساجد میں مؤذن پانچ وقت اذان میں بلند آواز سے دہراتا ہے۔ قرآن کریم میں متعدد انبیاء
، خصوصاً وہ انبیاء
جن پر آسمانی صحائف نازل ہوئے ، ان کے لیے رسول کا لقب ذکر کیا گیا ہے، تاہم عہد قدیم (Old Testament) میں شیلوہ یا شلوحا صرف حضرت یعقوب
کی وصیت میں ملتا ہے۔
اب کسی بھی زاویہ سے حضرت یعقوب
کی اس بشارت کابغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس کی مکمل تکمیل حضرت محمد
پر ہوئی۔ اس لیے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہود بے مقصد کسی دوسرے شیلوہ کے آنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں،اور عیسائی آج بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ شیلوہ عیسیٰ
تھے، حالانکہ دونوں ہی خیالات حقیقت کے صریح خلاف ہیں۔ 50
مذکورہ بالا ابحاث وتفاسیر سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ جوعصائے حکومت اولادِ یہوداہ کے پاس تھا، بشارتِ یعقوب
کی رُو سے وہ ان سے چھن جائے گا اور نبی عربی رسول اللہ
کے ہاتھ مبارک میں آجائے گا۔ چنانچہ واقعات وحالات نے یہ ثابت کردیا کہ حضرت سلیمان
کے بعد یہ عصا ہمیشہ کے لیے بنی اسرائیل سے چھن گیا اور آج تک اس کا کوئی وارث نہ ہوا۔ یوں حکومت رسول اللہ
اور آپ
کی امت کے پاس آگئی۔ بلکہ حضرت سلیمان
کے بعد بنی اسرائیل متفرق ہوگئے اور اس کے بعد کبھی ایک جگہ اکٹھے نہ ہو سکے۔ حضرت عیسیٰ
نے بنی اسرائیل کو ایک جگہ اکٹھا کرنے اور ا س منتشر گلہ کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش فرمائی مگر خدا کو ایسا منظور نہ تھا۔ جبکہ رسول اللہ
کے دین پر نصاری، یہود اور دیگر اقوامِ عالم کا کثیر تعداد میں اکٹھا ہو جانا تاریخی واقعات سے ثابت ہے۔ اس طرح پیشگوئی کی دوسری شق کہ "اقوامِ عالم اس کے پاس اکٹھی ہوں گی"پوری ہوگئی۔51